عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیل کی خون کی ہولی، معذور، بھوکے اور بے گھر فلسطینی اذیت میں مبتلا

خلیج اردو
غزہ – 16 جولائی 2025
غزہ میں اسرائیلی بمباری، جبری انخلا اور محاصرے کے باعث انسانی بحران اپنی بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی خبر ایجنسیوں کی تازہ رپورٹس کے مطابق غزہ کے 90 فیصد شہریوں کو جبری بے دخلی کا سامنا ہے، جن میں اکثر کئی بار اپنے گھروں سے نکالے جا چکے ہیں۔

اب تک جاری حملوں میں 58 ہزار 479 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ مزید 11 ہزار افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہر روز 15 فلسطینی بچے مستقل معذوری کا شکار ہو رہے ہیں، جب کہ روزانہ 10 بچے ہاتھ یا ٹانگوں سے محروم ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں اب تک 40 ہزار سے زائد بچے زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ ہر 10 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔ صورتحال دن بہ دن مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

بمباری کے باعث 35 ہزار فلسطینی عارضی یا مستقل سماعت سے محرومی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایک لاکھ 11 ہزار 500 بزرگوں میں سے 97 فیصد بیمار ہیں، جب کہ 96 فیصد کو دائمی امراض لاحق ہیں، جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ کے 86 فیصد علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے یا ان علاقوں میں جبری انخلا کا حکم جاری کیا جا چکا ہے، جس سے لاکھوں افراد پناہ، خوراک اور ادویات کے لیے بے یار و مددگار ہو چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button