خلیج اردو
12 جنوری 2021
استنبول : ترکی ایک سیکولر ملک ہے لیکن گزشتہ چند سالوں میں حکومتی اقدامات ترقی پسندی کے خلاف دیکھائے دیئے ہیں۔ اس کے باوجود بھی ملک میں قدامت پسندی کو پسند نہیں کیا جاتا اور حکومتی سطح پر اس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
2018 میں ایک کیس سامنے آیا تھا جہاں ایک میزبان کو ٹی وی پر خواتین کیلئے نامناسب زبان استعمال کرنے اور انہیں قدامت پسندی سے متعلق لباس پہنایا تھا۔ اس مبلغ نے خود کو ٹی وی پر گھریلو لباس پہنے خواتین سے گھیر لیا تھا ۔ اسے جنسی جرائم کے الزام میں پیر کو ایک ہزار سال سے زیادہ کیلئے قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عدنان اوقتار نے قدامت پسندانہ نظریات کی تبلیغ کی جبکہ وہ خواتین کو بلی کے بچے کہا کرتا تھا۔ ان میں سے بہت سی خواتین بظاہر پلاسٹک سرجری کیے ان کے اردگرد ڈانس کررہی ہوتی تھی۔
64 سالہ عمر کو استنبول پولیس کے مالیاتی جرائم کے یونٹ نے 2018 میں اس گروپ پر کریک ڈاؤن کے دوران اسے حراست میں لیا تھا۔
Source : Khaleej Times







