خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں ایسا وقت پہلے کبھی نہیں آیا جب ایٹمی جنگ کا اتنا بڑا خطرہ لاحق ہو۔ جو حالات گزشتہ دنوں پیدا ہوئے، وہ مجھے بالکل بھی خوش آئند نہیں لگے، جس کے باعث امریکہ کو بھارت اور پاکستان کے ساتھ فوری رابطے اور بات چیت میں شامل ہونا پڑا۔ صدر نے واضح کیا کہ اگر ایٹمی جنگ جیسا کوئی واقعہ شروع ہو جاتا تو اس کے اثرات بہت ہی تباہ کن ہوتے اور عالمی سطح پر بہت نقصان ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سوچا کہ ایسے نازک حالات میں امریکہ کو فوراً مداخلت کرنی چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور عالمی امن کو قائم رکھا جا سکے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کی یہ مداخلت ایک ذمہ دارانہ قدم تھا تاکہ دونوں ایٹمی طاقتوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لایا جا سکے اور خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی اس معاملے میں مثبت کردار ادا کرے تاکہ ایٹمی جنگ کا خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔





