
خلیج اردو
دبئی: دبئی کے علاقے البرشاء میں رواں ماہ کے آغاز میں ایک رہائشی عمارت میں گیس دھماکے کے باعث آگ لگنے سے شدید جھلسنے والی فلپائنی خاتون انالن اپنی زندگی کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ انالن کو 65 فیصد جسمانی جھلساؤ کا سامنا ہے اور وہ سرکاری اسپتال کے برن یونٹ میں زیر علاج ہیں۔
13 مئی کو البرشاء ون کی حلیم اسٹریٹ پر واقع الزرونی بلڈنگ میں واقع پرل ویو ریسٹورنٹ میں گیس لیکج کے نتیجے میں دھماکہ اور آگ بھڑک اٹھی تھی۔ یہ عمارت 13 منزلہ ہے اور واقعہ مال آف دی ایمیریٹس کے قریب پیش آیا۔ متاثرہ خاتون انالن اسی عمارت کی پہلی منزل پر اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھیں، جو ریسٹورنٹ کے عین اوپر واقع ہے۔
انالن کی بہن اینجلی، جو سعودی عرب میں نرس کے طور پر کام کر رہی ہیں، نے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بہن اور بہنوئی دونوں اس واقعے میں جھلس گئے تھے، تاہم انالن کی حالت زیادہ نازک ہے جبکہ ان کے شوہر وارڈ میں صحتیابی کی جانب گامزن ہیں۔ “یہ سب رات دیر گئے ہوا، جب وہ سونے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہو گیا۔”
دبئی سول ڈیفنس (DCD) کے مطابق ریسٹورنٹ میں گیس لیکج کے باعث آگ لگی، جسے ریکارڈ وقت میں قابو میں کر لیا گیا۔ واقعے کے بعد متعدد رہائشیوں نے عارضی طور پر دوستوں اور رشتہ داروں کے ہاں پناہ لی۔
انجلی کا کہنا ہے کہ اسپتال عملہ ان کی بہن کی حالت سے متعلق بروقت معلومات فراہم کر رہا ہے، لیکن انالن کی صحت یابی کا سفر طویل اور دشوار ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ انالن کو سانس لینے میں مدد کے لیے "ٹریکیوسٹومی” کی گئی ہے، جس کے تحت گلے میں سوراخ کر کے سانس کی نالی کو کھولا جاتا ہے۔
"ہم ان کے اسپتال کے اخراجات اور مستقبل کے حوالے سے شدید پریشان ہیں۔ جھلسنے کے زخموں سے صحت یابی میں وقت لگتا ہے اور مستقل نگہداشت درکار ہوتی ہے،” انجلی نے مزید کہا۔
انالن اور ان کے شوہر گزشتہ دہائی سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور گھر کے اہم کفیل شمار ہوتے ہیں۔ انالن نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ریسپشنسٹ کیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں وہ ایک جم میں ملازمت کر رہی تھیں جہاں ان کے شوہر پہلے سے کام کر رہے ہیں۔






