پاکستانی خبریں

محکمہ خوراک خیبرپختونخوا میں 7 ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیاں بے نقاب

خلیج اردو
پشاور: محکمہ خوراک خیبرپختونخوا میں 7 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ نے محکمہ کی کارکردگی اور مالی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گندم کی ترسیل میں تاخیر اور جرمانے نہ لگانے سے قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ پرانے ٹھیکیداروں کی جانب سے گندم کی 84 ہزار میٹرک ٹن مقدار مقررہ وقت پر نہ اٹھائی جا سکی، جس پر ایک فیصد یومیہ جرمانہ عائد نہ کیا گیا، اور اس غفلت سے 6 کروڑ 56 لاکھ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔

مزید برآں، گندم خریداری کے معاہدے پر 4 اکتوبر 2023 کو پاسکو پنجاب سے دستخط ہوئے، تاہم ترسیل میں تاخیر سے بھی خزانے کو نقصان پہنچا۔ انصاف فوڈ کارڈ منصوبے پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث خزانے کو 18 کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

آڈٹ رپورٹ میں لائسنسوں کی بروقت تجدید نہ ہونے سے 21 کروڑ روپے کا نقصان، اور سروس ڈیلیوری میں مالی شفافیت کی کمی سے 53 کروڑ روپے سے زائد کے ہیر پھیر کی نشاندہی کی گئی ہے۔

جرمانوں کی عدم وصولی سے بھی قومی خزانے کو 13 کروڑ 35 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

یہ رپورٹ خیبرپختونخوا کی حکومت اور محکمہ خوراک کے مالی نظم و نسق پر سنگین سوالات چھوڑ گئی ہے، جب کہ شفاف احتساب اور فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button