
خلیج اردو
اسلام آباد، 4 مارچ – سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو، سزا ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرائل چاہے کسی بھی عدالت میں ہو، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا متبادل موجود ہے اور امریکا میں روایت ہے کہ دلائل کے اختتام پر دونوں فریقین کو پروپوز ججمنٹ کا حق دیا جاتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ فوجی عدالتوں سے کتنے افراد رہا ہو چکے ہیں؟ اس پر وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ 105 ملزمان میں سے 20 رہا ہو چکے ہیں، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق مزید 19 کو بھی رہا کیا گیا، اور اس وقت 66 ملزمان جیل میں موجود ہیں۔
وکیل فیصل صدیقی کا مؤقف تھا کہ عام عدالتوں اور فوجی عدالتوں کے ٹرائل میں زمین آسمان کا فرق ہے، ایک طرف آزاد عدلیہ ہے اور دوسری طرف فوجی عدالتیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان کے دفاع کو خطرہ ہو، وہاں سویلینز کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے، لیکن 9 مئی کے واقعات میں کیسز صرف توڑ پھوڑ تک محدود ہیں۔
بعد ازاں، درخواست گزار بشری قمر کے وکیل عابد زبیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے اپیل کے حق سے متعلق قانون سازی کا ذکر کیا تھا۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل ایسی انڈرٹیکنگ دے سکتے ہیں جو قانون میں شامل نہ ہو؟
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔






