
خلیج اردو
اسلام آباد سے دبئی جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز 9 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوگئی، جب کہ انجینئرنگ شعبے سے متعلق ایک تنازع کے باعث ملک بھر میں پروازوں کا نظام متاثر ہوا۔
پی آئی اے کے مطابق پیر کی رات انجینئرز کے ایک گروپ "سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان” (SAEP) نے انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے آپریشنز کو عارضی طور پر روکنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
انجینئرز کے گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کسی قسم کی ہڑتال نہیں کر رہے بلکہ صرف لازمی حفاظتی اور سرٹیفیکیشن اصولوں پر عمل کر رہے ہیں۔ تاہم، پی آئی اے کی انتظامیہ نے رات بھر متبادل انتظامات کے ذریعے آپریشنز بحال کیے تاکہ پروازوں میں مزید تاخیر نہ ہو۔
پی آئی اے کے بیان کے مطابق ملک کے مختلف ہوائی اڈوں سے سات پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، جن میں اسلام آباد سے تین، کراچی سے دو، جبکہ لاہور اور سیالکوٹ سے ایک ایک پرواز شامل تھی۔ ان پروازوں میں تاخیر کا دورانیہ چار سے چودہ گھنٹے تک رہا۔
دوسری جانب، پانچ پروازیں منسوخ کر دی گئیں جن کے مسافروں کو متبادل پروازوں کی پیشکش کی گئی۔
ایئرلائن نے کہا کہ فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بحال کر دیے گئے ہیں اور مسافروں کی سہولت ہماری اولین ترجیح ہے۔







