پاکستانی خبریں

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز، سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی عدالت، سوموٹو اختیارات ختم کرنے کی شق شامل

خلیج اردو
اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں سپریم کورٹ سے علیحدہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق نئی آئینی عدالت کو آئین کی تشریح، بنیادی حقوق اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کے مقدمات سننے کا اختیار حاصل ہوگا۔

ترمیم میں سپریم کورٹ کے سوموٹو اختیارات ختم کرنے کی شق بھی شامل ہے جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے سپریم کورٹ پر لاگو ہوں گے، تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے آئینی عدالت پر لاگو نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدت ملازمت تین سال مقرر کی گئی ہے، جب کہ عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت دونوں کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔

آرٹیکل 206 میں ترمیم کے ذریعے یہ تجویز دی گئی ہے کہ سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار کرنے والا جج ریٹائر تصور ہوگا، جبکہ آرٹیکل 209 میں ترمیم کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط شامل کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button