پاکستانی خبریں

معصوم کلیاں مسلی ہیں،کتابیں اور بستے بکھرے ہیں،سفید شرٹ خون سے لال ہے،خضدار حملے پر سوشل میڈیا چیخ پڑا

خلیج اردو
ملک عاطف خٹک
پاکستان کے جنوبی مغربی صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں بدھ کی صبح دہشتگردوں نے اس وقت آرمی پبلک اسکول کی بس کو نشانہ بنایا جب وہ 40 سے زائد کم سن طلباء کو اسکول پہنچا رہی تھی۔ افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ افراد شہید
حملے میں متعدد بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تاہم خلیج اردو کے ذرائع کے مطابق شہدا کی تعداد 6 جبکہ زخمیوں کی تعداد 40 سے زیادہ ہیں جن میں 10 سے 15 بچوں کی حالت تشویشناک ہیں جن کو مقامی اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔

واقعے کے بعد پاکستان کے صدر،وزیراعظم،وزیر داخلہ سمیت سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی ہے اور شدید غم و رنج کا اظہار کیا ہے۔ الگ الگ بیانات میں حکام نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا بلوچستان میں تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے،ان دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی جو صوبے میں امن و امان یعنی داخلی امور کے صوبائی اور پھر وفاق میں وزیر رہے ہیں، نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے حکم پر بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں نے خضدار میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا، جہاں معصوم بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ بھارت کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے، جو آپریشن بنیان مرصوص میں ذلت آمیز شکست کے بعد سامنے آیا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے لکھا اس ناقابل برداشت نقصان پر متاثرہ خاندانوں اور عزیزوں سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت اور ہمدردی۔ کوئی بھی الفاظ ان خاندانوں کے دلوں میں موجود غم کی گہرائی کو پر نہیں کر سکتے، لہٰذا ہم سب ان کے لیے دعا گو ہیں۔

سابق وزیر اطلاعات اور سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کیلئے سرگرم رہنے والے فواد چوہدری نے لکھا کہ آرمی پبلک اسکول کی بس پر خودکش حملہ دل دہلا دینے والا ہے۔ اس وحشیانہ دہشتگردی کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں مل رہے، یہ سب جنون اور پاگل پن ہے۔

پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے 2014 کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے آج ٹی وی کی بیورچیف فرزانہ علی نے ایکس پر لکھا ’’ ایک بار پھر آرمی پبلک سکول،اس واقعے نے مجھے ایک بار پھر پشاور اے پی ایس کی تلخ یادوں میں دھکیل دیا۔خاص طور پر بس کے اندر کی ایک تصویر ،انہوں نے پوچھا کہ آخر کب تک۔

صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ آرمی پبلک اسکول کے وہ معصوم بچے جنہیں دہشتگرد حملے میں شہادت نصیب ہوئی، دل بہت غمگین ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم صارف خدیجہ صدیق نے لکھا کہ اس حملے نے تو خاندان اجڑ دیئے۔ انہوں نے ایک تصویر بھی ساتھ شیئر کی جس میں بچوں کے سفید یونیفارم خون میں لت پت ہیں اور ایک بچے کا جوتا نمایاں ہے۔ جو بظاہر شہید ہونے والے بچوں کے ہیں۔

صحافی وسیم عباسی نے لکھا کہ یہ کتنا بزدلانہ اقدام ہے، انہوں نے اسے بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگردوں کی کارروائی قرار دیا۔

ایک صارف حمزہ نے لکھا
ننھے ہاتھوں میں قلم ہو تو سیاہی نا رہے،
ظلم دیکھا ہو کسی نے یہ گواہی نا رہے-

سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کی بھرمار ہے جس میں عوام غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں۔ الفاظ میں جذبات کے ساتھ حکام سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان دہشتگردوں کیلئے کوئی ہمدردی نہیں ، کوئی ہمدردی نہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button