
خلیج اردو
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ اور پاکستان کے معروف بزنس ٹائیکون ملک ریاض کی جائیدادوں کی نیلامی روکنے کی چاروں درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے نیب کی کارروائی کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے نیلامی کے عمل کو جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) 7 اگست کو ملک ریاض کی متعدد جائیدادوں کو نیلام کرے گا۔ نیلامی میں بحریہ ٹاؤن فیز 2 میں واقع دو کارپوریٹ آفسز، بحریہ گارڈن سٹی کی روبائش مارکی اور لان، فیز 4 کا ارینا سینما، سفاری ولاز ون میں بحریہ انٹرنیشنل اسکول کی عمارت، اور بحریہ ٹاؤن پلاٹ نمبر 27 پر واقع سفاری کلب شامل ہوں گے۔
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں کہا گیا کہ نیب کی کارروائی قانون کے دائرے میں ہے اور جائیدادوں کی نیلامی کا عمل روکا نہیں جا سکتا۔
نیب کی جانب سے جائیدادوں کی نیلامی کا عمل کرپشن کیسز میں ریکوری کے لیے کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ملک ریاض کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں فروخت کی جائیں گی۔







