پاکستانی خبریں

بین الاقوامی یومِ مزدور پر جسٹس جمال مندوخیل کا اظہارِ خیال: “ہم انصاف نہیں، فیصلے کرتے ہیں”

خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے این آئی آر سی کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی یومِ مزدور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ججز بولتے نہیں، لکھتے ہیں، لیکن آج دل کی اور آئین کی بات کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا کوئی کمال نہیں کہ میں جج ہوں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کام سے انصاف کر رہے ہیں؟

جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ہمارا کلچر جرگے کی صورت بیٹھ کر بات چیت کا ہے، اسی روایت کو زندہ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ “تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں” اور “ہم سب برابر اور بھائی ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنے حلف کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا۔ ہم ججز صرف فیصلے کرتے ہیں، انصاف صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ہمارے پاس جو مواد آتا ہے ہم اسی کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی فریق کہتا ہے کہ اُس کا حق ہے، تو بھی فیصلہ اس کے سامنے موجود دستاویزات پر ہوتا ہے۔

جسٹس مندوخیل کا کہنا تھا کہ ہمیں ان دفاتر اور وسائل پر ناز نہیں، یہ سب عوام اور مزدوروں کی بدولت میسر ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں کان کنی کا سخت کام مزدور کرتے ہیں، وہاں حکومت کو ان کی حفاظت کے لیے قوانین بنانے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں درج تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے، اور ججز نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ بغیر کسی دباؤ، خوف یا لالچ کے فیصلے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزدور کسی کا غلام نہیں، اور ہر شخص کو آئین میں درج حقوق ملنے چاہییں۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو مل بیٹھ کر بات ہونی چاہیے۔

جسٹس مندوخیل نے اپنے خطاب کا اختتام اس یقین دہانی پر کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی ججز انصاف کی فراہمی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button