
خلیج اردو
اسلام آباد: مشیرِ وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کوئی بھی قیدی جیل میں بیٹھ کر کوئی تحریک منظم نہیں کر سکتا، نہ ہی سیاسی پیغام باہر بھیج سکتا ہے۔ جیلوں میں سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی اور قانون کے مطابق پابندیاں سب پر یکساں لاگو ہوتی ہیں۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق 26 نومبر کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی شرائط کے تحت ملاقاتوں کی اجازت دی گئی۔ پہلے ان کی ملاقات بشریٰ بی بی سے ہوئی اور پھر اگلی ملاقات میں عظمیٰ خان بھی شامل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شرائط پر عمل ہو تو ملاقاتوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی، لیکن جیل میں قانون کی پابندی لازمی ہے۔
مشیرِ وزیراعظم نے بتایا کہ علی امین گنڈا پور نے کچھ ضروری قانونی اقدامات ماننے سے انکار کیا جس کے باعث انہیں ہٹا کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو لایا گیا۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو ملاقات کے ذریعے ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اس کام سے پیچھے نہیں ہٹنا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پیغام کے بعد کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اسے صرف ایک آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب بھی صورتحال میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی ضرورت نہ پڑے۔







