
خلیج اردو
اسلام آباد: میانمار میں 500 سے زائد پاکستانیوں کے قید ہونے کا ہولناک انکشاف ہوا ہے، جن میں درجنوں خواتین بھی شامل ہیں۔ تمام قیدی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، جو آن لائن جعلی بھرتیوں کے اشتہارات دیکھ کر تھائی لینڈ پہنچے، جہاں سے انہیں برما کے خطرناک علاقوں میں منتقل کر دیا گیا اور ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق ان نوجوانوں کو مختلف بیگار کیمپوں میں قید رکھا گیا ہے اور انہیں زبردستی غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا۔ ان سے جعلی کریڈٹ کارڈ اسکیمیں، آن لائن دھوکا دہی، کرپٹو کرنسی کے جرائم اور دیگر مالیاتی دھوکہ دہی کے کام کرائے گئے۔
یہ کیمپ ان علاقوں میں قائم ہیں جہاں برما کی حکومت کی عملداری ختم ہو چکی ہے۔ ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر کیسینو اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔
قید سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے پانچ نوجوان پانی میں ڈوب کر جان سے گئے، جبکہ چھ افراد کسی طرح جان بچا کر وطن واپس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔







