پاکستانی خبریں

ابھی نندن کی واپسی سرنڈر تھی، اس وقت کے وزیراعظم اور آرمی چیف نے قومی وقار مجروح کیا، خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں کڑی تنقید — اسد قیصر کا بھرپور جواب

خلیج اردو
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کے درمیان شدید الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی واپسی درحقیقت ایک "سرنڈر” تھا، جس سے اُس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک کے وقار کو ٹھیس پہنچائی۔

انہوں نے کہا کہ اُس وقت یہ کہا گیا کہ ہم جنگ لڑنے کے قابل نہیں، طیارے اڑانے کے لیے ایندھن تک میسر نہیں۔ یہ بیانات قومی حمیت کی توہین تھے، کیونکہ پاک فضائیہ نے اُس وقت بھارت کو بھرپور جواب دے کر فضائی برتری ثابت کی۔ مگر سیاسی قیادت کی کمزوری کے باعث ابھی نندن کو واپس بھیج دیا گیا۔

خواجہ آصف نے زور دیا کہ آپریشن "بنیان مرصوص” کے بعد پاکستان کا وقار بلند ہوا، اور عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کا محور صرف ایک فرد کو بنانا حب الوطنی نہیں، اگر نئی قیادت تیار نہ کی گئی تو جماعتیں دم توڑ دیں گی۔ الیکشن کو ڈیڑھ سال ہو چکا، مگر ایک ہی بیانیہ دہرا کر عوام کو مزید گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے خواجہ آصف کو یاد دلایا کہ ابھی نندن کی واپسی کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اکیلے نہیں، بلکہ اس پارلیمنٹ نے اجتماعی طور پر کیا تھا۔

انہوں نے خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوائنٹ اسکورنگ کا وقت نہیں۔ کیا آپ کو یہ نشست عوام نے دی ہے؟ کیا آپ کو ضمیر ملامت نہیں کرتا؟ لاہور جیسے شہر میں مسلم لیگ ن صرف دو نشستیں جیت پائی ہے، اور اب آپ ہمیں اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں۔

اسد قیصر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی آج بھی پاکستان کا سب سے مقبول رہنما ہے۔ انہوں نے خواجہ آصف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پوری نسل تیار کی مگر قیادت نہیں ابھری۔ ایران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا اخلاقی فرض ہے، جبکہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

اسد قیصر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا اجلاس بلانے کے لیے متحرک کردار ادا کرے تاکہ مسلم دنیا متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مؤقف اپنائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button