پاکستانی خبریں

ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی، اور کمان نبی پاک ﷺ کے ہاتھ میں تھی،فیلڈ مارشل

خلیج اردو
اسلام آباد: ایوان صدر میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران پاکستان کی عسکری قیادت کے ذمہ دار ذرائع نے حالیہ عسکری کارروائیوں، پاکستان کی دفاعی حکمت عملی اور جنگی فتوحات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ذرائع نے اس موقع پر جنگی حالات کا موازنہ غزوہ بدر سے کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی، اور کمان نبی پاک ﷺ کے ہاتھ میں تھی۔”

ایکسپریس ٹی وی کی خبر کے مطابق عسکری ذرائع نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت تھی کہ اگر تعداد کم بھی ہو تو یہ کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ فتح کا دار و مدار ایمان اور یقین پر ہے۔ ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ "حضور ﷺ کو اللہ کا حکم ہوا کہ ریت کی مٹھی بھر کر دشمنوں کی طرف پھینکو، اور وہ ریت میزائلوں کی طرح دشمن کو لگی — یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔”

عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان کو بھی اپنی حالیہ جنگ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل رہی اور یہ اللہ ہی تھا جس نے دشمن کے ارادے خاک میں ملا دیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا کہ بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں بچا۔ "ہماری سول قیادت، سیاسی لیڈرشپ اور تینوں مسلح افواج کے جذبے پر ہمیں فخر ہے،” عسکری ذرائع نے مزید کہا۔

جنگ بندی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر عسکری حکام نے واضح کیا کہ "اب وہ کسی بھی ردِعمل کی جرات نہیں کرسکتے۔” انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ بندی پر بھارت نے براہِ راست کوئی بات نہیں کی بلکہ ہمیں تیسرے فریق کے ذریعے سیزفائر کی کال موصول ہوئی۔ عسکری ذرائع نے زور دے کر کہا کہ "ہم نے سچے انداز میں اپنی جنگ لڑی اور دشمن کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔”

ذرائع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں۔ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور عوام کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button