
خلیج اردو
اسلام آباد — سینیٹ اجلاس میں تمام جماعتوں کے اراکین بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف ہم آواز نظر آئے اور دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز اور بے رحم کارروائی کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان کے ضلع خضدار میں پیش آئے حالیہ واقعے کے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی گئی۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر ترقیاتی بجٹ کم کر کے دفاعی بجٹ میں تین گنا اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ ساتھ ہی انہوں نے مسلح افواج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کی تنخواہیں دوگنی کرنے کی بھی سفارش کی۔
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کی حکمت عملی نے تکبر کے دیوتا کو شکست دی، جبکہ سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے زور دیا کہ اب دہشتگردوں کے لیے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ معصوم بچیوں کو نشانہ بنانا انتہائی غیر انسانی اور ظالمانہ فعل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کو بھارت کی جانب سے مالی معاونت دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف بے رحم آپریشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے سے اختلافات ختم کرنے اور قومی سلامتی کے معاملات پر متحد ہونے کا مشورہ بھی دیا گیا۔ سینیٹ نے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ سے متعلق ایک قرارداد بھی منظور کی۔






