پاکستانی خبریں

سپر ٹیکس آپریشن سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے تھا، سپریم کورٹ میں اہم ریمارکس

خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سپر لیوی ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کو ہر روز دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے میں آپریشن سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے حکومتی منصوبہ کیا تھا؟

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا متاثرہ علاقوں کی آبادکاری کے لیے کوئی پی سی ون تیار کیا گیا؟ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر کتنے لوگ بے گھر ہوئے، اور بحالی کے لیے کوئی تخمینہ لگایا گیا یا نہیں؟ مزید یہ کہ کیا منی بل کے ذریعے سروسز پر ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے، اور سپر ٹیکس سے کتنی رقم اکٹھی ہوئی؟

جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ کیا سپر لیوی ٹیکس کا نفاذ صرف ایک سال کے لیے تھا یا ایک بار لاگو کرنے کے بعد یہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا؟ جسٹس امین الدین خان نے اعتراض اٹھایا کہ قومی مجموعی فنڈز سے رقم صوبوں کی رضامندی کے بغیر کیسے خرچ ہو سکتی ہے؟

وکیل مخدوم علی خان نے دلائل میں بتایا کہ حکومت نے 2015 میں سپر لیوی ٹیکس لاگو کیا، جس کا مقصد آپریشن ضربِ عضب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی تھا۔ 2015 سے 2022 تک یہ ٹیکس نافذ رہا، اور ابتدائی حکومتی تخمینہ 80 ارب روپے اکٹھا کرنے کا تھا، تاہم یہ معلوم نہیں کہ حکومت نے اس مد میں کتنی رقم جمع کی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button