خلیج اردو
اسلام آباد، 8 جولائی 2025 — سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے "پاکستان کی آخری وارننگ: ماحولیاتی تباہی یا اجتماعی اقدام” کے عنوان سے منعقدہ قومی کانفرنس میں کلیدی خطاب کے دوران ماحولیاتی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پانچ اہم اقدامات تجویز کیے اور خبردار کیا کہ پاکستان اب ایک "متواتر بحران” (Polycrisis) کے نرغے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جرمن واچ کلائمٹ رسک انڈیکس 2025 میں دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا ہے اور یہ درجہ بندی معمولی انتباہ نہیں بلکہ اجتماعی حرکت کے لیے آخری وارننگ ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ
"ہمیں موسم اور ماحولیاتی تبدیلی کے درمیان ذہنی فاصلے کو ختم کرنا ہوگا۔ جب تک ہم علامات کو ذمہ داری سے نہ جوڑیں، کوئی پائیدار قدم ممکن نہیں۔”
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب اور حالیہ مہلک گرمی کی لہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ
"حکومتی ایوانوں میں کوئی خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی، نہ بجٹ میں کوئی تبدیلی لائی گئی ہے، اور ماحولیاتی سانحات کو اب بھی صرف ‘موسم’ سمجھا جا رہا ہے۔”
سینیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی مسائل پر محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے:
"وقت آگیا ہے کہ روایتی جملے، عملی تجربے اور ذمہ داری میں بدلیں۔ محض منصوبے بنانے سے کچھ نہیں ہوگا، ان پر عمل درآمد ضروری ہے۔”
شیری رحمان نے اقوام متحدہ کی طرف سے ابتدائی وارننگ سسٹمز کو بنیادی انسانی حق قرار دیے جانے کی مثال دی اور کہا کہ پاکستان میں ایسے نظاموں کی اشد ضرورت ہے تاکہ بر وقت ردعمل ممکن ہو۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری کو بھی ان کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا:
"ہمیں عالمی موسمیاتی انصاف کی اہمیت بھی تسلیم کرنی ہوگی، جس کا تقاضا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی اخلاقی اور مالی ذمہ داریاں نبھائیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ادارہ جاتی ردعمل منقسم اور کمزور ہے:
"ٹکڑوں میں بٹے ردعمل سے اب کام نہیں چلے گا۔ ہمیں معاشرے کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنے والا جامع ماڈل درکار ہے — حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، میڈیا، اور عوام، سب کو شامل کرنا ہوگا۔”
انہوں نے نجی شعبے کو "گمشدہ کڑی” قرار دیا اور کہا:
"حکومت اور نجی شعبہ مل کر ماحولیاتی پیغام رسانی کی ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دیں، جو قومی اور مقامی سطح پر اثرانداز ہو۔”
خطاب کے اختتام پر انہوں نے واضح طور پر کہا کہ
"اگر پاکستان کو اجتماعی ماحولیاتی عمل میں کسی ایک چیز کو سب سے زیادہ ترجیح دینا ہو تو وہ پانی کا تحفظ ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں یا تو پانی زیادہ ہوتا ہے، یا ضرورت کے وقت نہیں ہوتا۔ اب بڑے ڈیمز کا دور گزر چکا — ہمیں ہر یونین کونسل میں کم لاگت بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے شروع کرنا ہوں گے۔”
انہوں نے بلوچستان اور سندھ کے خشک و بنجر علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ
"انڈس دریا ہماری زندگی کی لائن ہے، لیکن یہ آلودگی، تجاوزات اور اوپر کے علاقوں کی زیادتیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ اب پانی کے تحفظ میں تاخیر کا مطلب قحط اور بربادی ہے۔”
شیری رحمان نے آخر میں کہا کہ
"اب ہم تباہی اور اقدام کے درمیان کھڑے ہیں — بیچ کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔”






