عالمی خبریں

آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی تیل بحران شدت اختیار، ایک دن میں قیمتیں 25 فیصد تک بڑھ گئیں، برینٹ اور امریکی خام تیل 108 ڈالر فی بیرل

خلیج اردو
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دنیا بھر میں تیل کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں مجموعی طور پر تقریباً 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 18 فیصد اضافے کے بعد 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل بھی تقریباً 20 فیصد مہنگا ہو کر 108 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ طویل ہو گئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے جس سے دنیا بھر کی معیشتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو وقتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے بعد قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “یہ امریکہ اور دنیا کی سلامتی اور امن کے لیے ادا کی جانے والی بہت چھوٹی قیمت ہے، صرف بیوقوفوں کی سوچ ہی اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔”

ادھر عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی عالمی معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا رہے گا۔

دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور فی اونس سونا 157 ڈالر کم ہو کر 5023 ڈالر تک آ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ توانائی، مہنگائی اور عالمی تجارت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ پڑنے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button