خلیج اردو
19 دسمبر 2020
اسلام آباد : پاکستان میں وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسے قانون کیلئے راہ ہموار کر رہے ہیں جس سے برطانیہ کے قیدیوں کو ملک واپس لایا جانا آسان ہوگا۔
جمعہ کو پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ ہم نے برطانیہ کے ساتھ حوالگی معاہدے تک پہنچنے کیلئے قانونی عمل شروع کردیا ہے جس سے برطانیہ کیلئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
اس ماہ کے اوائل میں ایک اعلی عدالت نے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی میں رہنے والے نواز شریف کو بدعنوانی کے اضافی الزامات کا سامنا کرنے کیلئے وطن واپس نہ آنے پر انصاف سے مفرور قرار دیا تھا۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ برطانوی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ نواز شریف جیسے سزا یافتہ مجرموں کو وہاںرہنے کی اجازت نہ دیں۔ 2018 میں بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزام میں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ہم کوشش کر رہے ہیں ۔ ہم نے کوشش کی ہے اور ہم نواز شریف کو واپس لانے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان کا اس وقت برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔
شبلی فراد کی جانب سے اس پیشرفت کے دعویٰ کے بارے میں برطانیہ کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ ممکنہ طور پر اس عمل میں کئی سال لگیں گے اور انہیں پارلیمنٹ میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ اس وقت ملک بھر میں ریلیاں نکال رہی ہے ۔ ان ریلیز میں شریف کے جانشین وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ بدانتظامی اور ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں ناکامی کی بدولت مہینے کے آخر تک بطور وزیر اعظم مستعفی ہوجائیں۔ جبکہ حزب اختلاف نے مڈٹرم انتخابات کیلئے 2021 میں آغاز میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے دستبرداری کا عہد کیا ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے استعفی دینے سے انکار کیا ہے عمران خان کہتے ہیں کہ انتخابات ہوں گے لیکن حزب اختلاف کے ممبروں کے استعفی کے بعد خالی شدہ نشستوں کو پُر کرنےکیلئے ۔
2017 میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل کیے جانے والے نواز شریف پاکستان میں مستقل طور پر حکمرانی کے حق سے محروم ہو گئے تھے۔ نومبر 2019 میں پاکستانی حکام نے عارضی طور پر طبیعت خراب ہونے کے سبب انہیں ضمانت پر رہا کیا۔ تاکہ وہ بیرون ملک سفر اور طبی علاج حاصل کرسکے۔
بعد میں لندن جاکر نواز شریف ظاہر طور پر صحت مند دیکھائی دیئے اور جب انہیں ملکی عدالت میں پیش ہونے کیلئے بلایا گیا تو وہ حاضر نہ ہوئے جس کی وجہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کے وارنٹ گرفتار جاری کیے۔
شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ہم نے ان کی بیماری کی بدولت سے الیے جانے دیا تھا کہ لوگ اسے ذاتی دشمنی نہ سمجھیں اور انسانی اقتدار کو مدنظر رکھ کر ہم نے فیصلہ کیا۔
Source : Khaleej Times






