
خلیج اردو
استنبول: ترکیہ میں میئر استنبول کریم امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں فائر کیں۔
مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور میئر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
کریم امام اوغلو کو بدعنوانی اور دہشتگرد گروپوں کی معاونت کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حزب اختلاف نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردگان کے حریف سمجھے جانے والے امام اوغلو کی گرفتاری پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔







