
خلیج اردو
راولپنڈی: پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ یعنی ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے جعفر ایکسپریس حملے کو بھارتی پالیسی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس واقعے کے تانے بانے پڑوسی ملک افغانستان سے ملتے ہیں، جبکہ اس دہشت گرد کارروائی کا اصل اسپانسر بھارت ہے۔
پریس بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے جعفر ایکسپریس حملے کی خبر سب سے پہلے نشر کی، اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا نے اس واقعے کو ایک کارنامے کے طور پر پیش کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حملہ ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد اپنے سہولت کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور حملے کے دوران انٹرنیشنل وار فیئر بھی چلائی جا رہی تھی، جس کی قیادت بھارتی میڈیا کر رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس حملے میں شہدا کی تعداد 26 ہو گئی ہے، جن میں 15 فوجی، 3 ایف سی اہلکار، 3 پولیس اہلکار اور 5 عام شہری شامل ہیں۔ واقعے میں 354 افراد کو بازیاب کرایا گیا، جن میں 37 زخمی ہیں، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ 2024 کے آغاز سے اب تک 563 جوان شہید ہو چکے ہیں جبکہ 1200 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے افغانستان پر الزام عائد کیا کہ وہاں جیلوں سے دہشت گرد کمانڈرز کو رہا کیا جا رہا ہے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی، لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، لیکن ہمیں اس کا صلہ دہشت گردی کی صورت میں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردوں کو "ناراض بلوچ” کا نام دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
سرفراز بگٹی نے پاک فوج کی جانب سے یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کو قابلِ تحسین قرار دیا اور سکیورٹی فورسز کو کامیاب کارروائی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔






